Tuesday , 23 April 2019
Home / Regional News / باچا خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف بڑے الزامات ۔

باچا خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف بڑے الزامات ۔

31-08-2016 (7)[pukhto]چارسدہ (بیورو رپورٹ) باچا خان یونیورسٹی کا تدریسی عملہ وائس چانسلر کے کرپشن ، غیر قانونی اقدامات ،سیکورٹی کے ناقص انتظامات اور یونیورسٹی کے دو تدریسی ملازمین کو بلا وجہ بر خاستگی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ۔ وائس چانسلر پر اپنے بیٹے کو غیر قانونی طور پر گریڈ 17 میں بھرتی کرنے جبکہ چار سال سے غیر قانونی طور پر رجسٹرار کی سیٹ پر براجماں حامد خان پر اپنے منگیتر کو وارڈن بھرتی کرنے کے الزامات۔ گریڈ 7کے جونےئر کلرک کو گریڈ 17میں ترقی دیکر یونیورسٹی کا ان داتا بنانے کے الزامات ۔ با چا خان یونیورسٹی پر حملے کے حوالے سے تمام انکوائریوں میں وائس چانسلر کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا مگر موصوف کے خلاف کوئی کاروائی کرنے کی بجائے اسے دوبارہ باچا خان یونیورسٹی کا بے تاج بادشاہ بنایا گیا ہے ۔ ڈائریکٹر باچا خان یونیورسٹی شکیل احمد کا مظاہرین سے خطاب۔ وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم نے تمام الزامات جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ۔ تفصیلات کے مطابق با چاخان یونیورسٹی کے تدریسی عملہ نے باچا خان یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اور بوٹا کے صدر شکیل احمد کی قیادت میں یونیورسٹی سے احتجاجی ریلی نکالی ۔ ریلی کے شرکاء نے مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم مروت کے خلاف نعرے درج تھے ۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر تے ہوئے با چا خان یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اور بوٹا کے صدر شکیل احمد نے کہا کہ سیکورٹی اداروں نے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم مر وت کو سانحہ باچا خان یونیورسٹی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے مگر موصوف کے خلاف کوئی کاروائی کرنے کی بجائے ا ن کو دوبارہ باچا خان یونیورسٹی کا بے تاج بادشاہ بنایا گیا ہے جو اپنی من مانیاں اور میرٹ کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ موصوف نے اپنے بیٹے کو کسی ٹسٹ انٹرویو اور اشتہار کے بغیر گریڈ 17میں بھرتی کیا ہے جبکہ منظور نظر جونےئر کلرک شفقت کو گریڈ 17میں ترقی دیکر یونیورسٹی کا ان داتا بنایاگیا ہے جو گریڈ 18کے تدریسی عملہ کی بے عزتی کرکے ان کو گھر بھیجنے کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔ وائس چانسلر نے منظور نظر لوگوں کو پانچ پانچ عہدے دئیے ہیں جن کو باقاعدہ تمام عہدوں کی تنخواہیں ادا کی جا رہی ہے ۔ اہم انتظامی عہدوں جس میں رجسٹرار ، کنٹرولر اور خزانچی شامل ہیں پر جونےئر اور ناتجربہ کار لوگوں کو بٹھا یا گیا ہے ۔گزشتہ چار سال سے رجسٹرار کی سیٹ پر غیر قانونی طو رپر بر اجماں ایکٹنگ رجسٹرار حامد خان نے اپنی منگیتر کو وارڈن بھرتی کرنے کیلئے میرٹ لسٹ میں ہیرا پھیری کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ باچا خان یونیورسٹی اب بھی غیر محفوظ ہے اور وائس چانسلر نے یونیورسٹی کو محفوظ اور دیواروں کو اونچا کرنے کے حوالے سے بجٹ نہ ہونے کا بہانہ بنایا ہے جس سے ہزاروں طلباء اور تدریسی عملہ کی زندگی داؤ پر لگ گئی ہے ۔انہوں نے انکشاف کیا کہ باچا خان یونیورسٹی سے جن کالجوں اور اداروں نے الحاق کیا ہے ا س کو ہائر ایجوکیشن کمیشن غیر قانونی قرار دیا ہے اور ایک ہزار ایم فل طلباء اور طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے ۔ انہوں نے 20جنوری کے سانحہ کی جوڈیشل انکوائری ، نیب اور انٹی کرپشن سے باچا خان یونیورسٹی میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے انکوائری کا مطالبہ کیا اور عمران خان ، وزیر اعلی پر ویز خٹک ، یونیورسٹی کے چانسلر گورنر اقبال ظفر جھگڑا ، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سے بھی مطالبہ کیا کہ باچا خان یونیورسٹی کے مستقبل کو بچایا جائے اور وائس چانسلر کے تمام غیر قانونی اقدامات کو معطل کرکے ملازمت سے بر خاست کئے گئے تدریسی ملازمین احمد زیشان اور وسیم جان کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور یونیورسٹی ایکٹ کے تحت میرٹ کا بول بالا کیا جائے بصورت دیگر آل پاکستان ٹیچر ایسو سی ایشن سے مل کر صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائیگاجو مطالبات کی منظوری تک جاری رہیگا۔ دوسری طرف باچا خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم مر وت نے اس حوالے سے رابطہ کرنے پر بتایا کہ یونیورسٹی کے اندر اور باہر سیکورٹی کے پول پروف انتظاما ت کئے گئے ہیں ۔تدریسی عملہ کے د و ملازمین کو رولز ریگولیشن کی خلاف ورزی پر بر خاست کیا گیا ہے ۔ سینٹ سنڈیکیٹ میں حامد خان کو رجسٹرار چناء گیا ہے ۔ اپنے بیٹے کو گریڈ 17، جونےئر کلرک کو گریڈ 17میں ترقی اور رجسٹرار حامد خان کی منگیتر کو وارڈن بنانے کیلئے میرٹ لسٹ میں ہیرا پھیری کے تمام الزامات جھوٹ پر مبنی ہے اور کسی کو اس حوالے سے تحفظات ہیں تو باقاعدہ انکوائری کرلیں۔ وائس چانسلر نے مزید کہا کہ 20جنوری کے سانحہ کے بعد لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ اب باچا خان یونیورسٹی میں کوئی داخلہ نہیں لے گا مگر 1500سیٹوں کیلئے 3500طلباء اور طالبات نے درخواستیں جمع کی ہے جبکہ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔  [/pukhto]

Check Also

انسانیت سوز واقعہ نے انسانیت کے سر شرم سے جھکا دئیے ۔لڑکی نے منگنی ٹوٹنے پر سابق منگیتر کے دو بچوں کو قتل کر دیا ۔

شیخو پورہ میں انسانیت سوز واقعہ نے انسانیت کے سر شرم سے جھکا دئیے ۔شیخو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *