Friday , 26 April 2019
Home / Regional News / صوبائی حکومت کے حکم کے خلاف نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے سڑکوں پر آنے کی دھمکی

صوبائی حکومت کے حکم کے خلاف نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے سڑکوں پر آنے کی دھمکی

[pukhto]چارسدہ(بیورورپورٹ)جماعت پنجم کے امتحانات تعلیمی بورڈ کے زیر انتظام لینے اور نجی تعلیمی اداروں کیلئے ریگولرٹی اتھارٹی کے قیام کے خلاف صوبہ بھرکے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان نے لنگوٹ کس لئے ۔سکول مالکان نے ثانوی تعلیمی بورڈ کے فیصلوں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے ، تعلیمی ادارے بند کرنے اور سڑکوں پر آنے کی دھمکی دے دی۔ صوبائی صدر سلیم خان ۔ تفصیلات کے مطابق چارسدہ میں پرائیوٹ سکولز ایسو سی ایشن کے زیر اہتمام نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کا غیر معمولی اجلاس منعقدہوا۔ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر سلیم خان ، نائب صدر عقیل رزاق ، نیشنل ایجوکیشنل کونسل کے چیئر مین نذر حسین ، صوبائی ایڈیشنل سیکرٹری آنس خان اور ضلع چارسدہ کے صدر نفیس اللہ نے کہا کہ غیر ملکی این جی اوز کی سازش پر محکمہ تعلیم خیبر پختون خو ا اور ثانوی تعلیمی بورڈ پشاور کے حکام نجی تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کے درپے ہیں ۔ ریگولرٹی اتھارٹی کے ذریعے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان سے اختیارات چھین کر محکمہ تعلیم کو منتقل کئے جا رہے ہیں ۔ غیر ملکی این جی اوزاپنی مرضی کا نصاب تعلیم مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔صوبائی حکومت نے بیرونی آقاؤوں کی اشاروں پر تعلیمی نصاب سے دین اسلام کے حوالے سے اسباق ختم کر کے یہود و ہنود کے حوالے سے لکھے گئے مضامین شامل کئے ہیں جو کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثانوی تعلیمی بورڈ کے کیلنڈر 2006کے مطابق پشاور تعلیمی بورڈ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ جماعت پنجم کا امتحان لیں ۔ انہوں ثانوی تعلیمی بورڈ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ثانوی تعلیمی بورڈ کی تشخیصی عمل سے نجی تعلیمی اداروں کی تشخیصی عمل بہت بہتر ہے۔ ثانوی تعلیمی بورڈ میٹرک اور انٹر کے امتخانات میں مسلسل غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے جس کی وجہ سے ہر سال 33فی صد طلباء ری چیکنگ کیلئے درخواستیں دیتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجی تعلیمی ادارے ملک میں تعلیم کی فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ وطن عزیز کے56 فی صد خواندگی نجی اداروں کی مرہون منت ہے ۔ پشاور بورڈ کے تحت میٹرک اور انٹر میں ہر سال ٹاپ 10اور ٹاپ20 پوزیشن نجی تعلیمی ادارے حاصل کررہے ہیں ۔مقررین نے کہا کہ محکمہ تعلیم سرکاری تعلیمی اداروں کو سنبھال نہیں سکتی ۔ محکمہ تعلیم سرکاری سکولوں میں پینے کاصاف پانی، بجلی، پنکھے اور واش روم کی سہولت تک فراہم نہیں کر سکتی تو نجی تعلیمی اداروں کا کنڑول کس طرح ان کو دیا جا سکتا ہے ۔ محکمہ تعلیم پہلے سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار پر رحم کریں اور بعد میں نجی تعلیمی اداروں کیلئے آئین اور قانون کے مطابق ریگولرٹی اتھارٹی بنائیں۔انہوں نے دھمکی دی کہ محکمہ تعلیم اور صوبائی حکومت نے نجی تعلیمی اداروں میں مداخلت بند نہ کی تو تعلیمی ادارے بند کرکے سڑکوں پر احتجاج کیا جائیگا اور اس حوالے سے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا۔[/pukhto]

Check Also

انسانیت سوز واقعہ نے انسانیت کے سر شرم سے جھکا دئیے ۔لڑکی نے منگنی ٹوٹنے پر سابق منگیتر کے دو بچوں کو قتل کر دیا ۔

شیخو پورہ میں انسانیت سوز واقعہ نے انسانیت کے سر شرم سے جھکا دئیے ۔شیخو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *