Tuesday , 23 July 2019
Home / Regional News / خیبر پختون نخو اپولیس کو دہشت گردی سمیت متعدد چلنجز کا سامنا ہے ۔ ڈی آئی جی کا خطاب

خیبر پختون نخو اپولیس کو دہشت گردی سمیت متعدد چلنجز کا سامنا ہے ۔ ڈی آئی جی کا خطاب

[pukhto]چارسدہ(جنرل رپورٹر) ڈی آئی جی مردان اعجاز خان نے پولیس حکام کو ا فغان مہاجرین سے مثبت رویہ اختیار کرنے کے احکامات جاری کئے ۔ غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین مقامی افراد کی ضمانت دیں تو ان کو بے جا تنگ نہ کیا جائے۔ خیبر پختون نخو اپولیس کو دہشت گردی سمیت متعدد چلنجز کا سامنا ہے ۔ محدود وسائل کے باوجود خیبر پختونخوا پولیس عوام کے توقعات پر پورا اترنے کی وشش کر رہی ہے ۔ محکمہ پولیس میں پولیس بورڈ کے قیام سے سفارشی کلچر کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ عوام اور پولیس کے مابین فاصلے کم ہو چکے ہیں اور خیبر پختونخوا پولیس حقیقی معنوں میں کمیونٹی پولیس کا کر دار ادا کر رہی ہے ۔ وہ ٹی ایم اے ہال چارسدہ میں سی آر ایس ایس کے زیر اہتمام پولیس اور عوام کے مابین فاصلے کم کرنے اور عوام کا پولیس پر اعتماد بڑھانے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سہیل خالد سمیت دیگر پولیس افسران ، بلدیاتی نمائندے اور سماجی کارکن بھی موجود تھے ۔ تقریب میں مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے پولیس اصلاحات کے حوالے سے اظہار خیال کیا ۔ اس موقع پر خطاب کر تے ہوئے ڈی آئی جی اعجاز خان نے کہاکہ پختون نخوا پولیس کو اس وقت بہت سے چیلنجز کا سامنا ہیں کیونکہ ہمارا صوبہ ایک عرصہ سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں جس میں سب سے زیادہ قربانیاں خیبر پختون نخوا پولیس نے دی ہے لیکن محدود وسائل کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کی بدولت پولیس ان تمام چیلنجزسے نمٹنے کے لئے تیا رہے۔ا خیبر پختونخوا پولیس حقیقی معنوں میں کمیونٹی پولیس کا کردار ادا کرتے ہوئے ریجن کے مختلف علاقوں میں مقیم افغان مہاجرین سے مثبت رویہ رکھ کر ان کو بے جا تنگ نہ کر یں اور اگر کوئی غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجر کیلئے دو مقامی افراد ضمانت دیں تو پولیس ایسے افغان مہاجرین کے خلاف کسی قسم کی کاروائی سے گریز کریں ۔تقریب کے موقع پر پولیس اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈی آئی جی مردان ریجن اعجاز خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے محکمہ پولیس میں پولیس بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے پولیس میں سفارش کلچر کا حاتمہ ممکن ہوا ہے ۔پولیس کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے صوبے میں 9پیشہ رورانہ سکول کام کر ہے ہیں جس میں اس وقت ہزاروں پولیس اہلکار تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عوام کی پولیس تک رسائی ایک ایس ایم ایس سے ممکن بنائی گئی ہے جس سے کوئی بھی شہری گھر بیٹھ کر شکایت درج کر اسکتا ہے۔دوسری جانب پولیس نے جرائم پیشہ افراد کو گرفتا کرنے اور ان کی نشاندہی کرنے کے لئے ڈیٹا کو کمپیوٹرائز کیا ہے جس سے ان ملزمان کی ہر جگہ نشاندہی میں مدد ملتی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس عوامی مسائل کے حل کی طرف گامزن ہے اور اس سلسلے میں پولیس نے PALکا قیام عمل میں لایا ہے جبکہ محکمہ کی جانب سے ہر ضلع میں ایک ماڈ ل پولیس سٹیشن قائم کیا ہے جس میں خواتین کے لئے الگ ڈیسک قائم کیا ہے ۔ دوسری جانب پولیس کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کے لئے ہر ضلع کا پولیس آفیسر سال میں دو مرتبہ ضلعی اسمبلی میں پولیس کی کارگردگی کی رپورٹ پیش کرنے کا پابند بنایا گیا ہے جبکہ ضلع کونسل کی دو تہائی اکثریت سے پولیس آفیسر کو ہٹا سکتی ہیں ۔تقریب میں سی آر ایس ایس کی پر وگرام منیجر مصطفیٰ ملک نے تقریب میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔[/pukhto]

Check Also

انسانیت سوز واقعہ نے انسانیت کے سر شرم سے جھکا دئیے ۔لڑکی نے منگنی ٹوٹنے پر سابق منگیتر کے دو بچوں کو قتل کر دیا ۔

شیخو پورہ میں انسانیت سوز واقعہ نے انسانیت کے سر شرم سے جھکا دئیے ۔شیخو …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *