Tuesday , 23 July 2019
Home / Charsadda Special / چارسدہ کی سیاسی ڈائری ۔ تحریر این اے وہاب

چارسدہ کی سیاسی ڈائری ۔ تحریر این اے وہاب

[pukhto]ملک میں جاری سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں حلقہ این اے 120پر سابق وزیر اعظم کے اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی کامیابی جہاں ایک طرف مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کیلئے خوشی کا باعث بن رہی ہے وہاں تحریک انصاف کیلئے ایک بڑا دھچکا بھی ہے کہ اس الیکشن کو بعض قوتوں نے انا کا مسئلہ بنا تے ہوئے حق و باطل اور عدلیہ حامی و مخالف قوتوں کی ایک جنگ قرار دیا تھا ۔ تاہم اس مرحلے پر مسلم لیگ (ن) نے اپنی کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھ کر نادیدہ قوتوں کو ایک واضح پیغام دیا ہے جس کے بعد چارسدہ میں بھی تمام سیاسی جماعتیں متحرک ہو چکی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت اس مرحلے پر رابطہ عوام مہم میں مصروف ہیں جبکہ مقامی سطح پر بھی سیاسی جماعتیں اس صورتحال میں اپنا کر دار اداکر رہی ہے تاکہ 2018کے عام انتخابات کیلئے اپنے آپ کو عوام کیلئے قابل قبول بنایا جا سکے ۔ گزشتہ ہفتے کے دوران ضلع کی سیاست پر جہاں برما کے مسلمانوں کے حوالے سے سیاسی و مذہبی جماعتوں او ر تاجروں کے تنظیموں کے احتجاجی مظاہرے غالب رہے جس کی وجہ سے دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ چارسدہ کے سیاست پر یہ احتجاجی رنگ بھی غالب رہا ۔ تاہم تحریک کو چلانے کیلئے سیاسی جماعتوں کا منظم ہونا ضروری ہے ۔ اگر ضلع میں غیر فعال سیاسی جماعتوں کا جائزہ لینا ہو تو مرکز کی حکمران نواز لیگ اس لحاظ سے عرصہ دراز سے غیر فعال چلی آرہی ہے ۔اس کے ضلعی عہدیدار چونکہ اوپر سے نامزد کئے جا تے ہیں جس کی وجہ سے ضلع بھر میں (ن) لیگ نہ تو عام انتخابات میں اور نہ ہی بلدیاتی انتخابات میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکی ہے ۔ اسلئے اس حکمران جماعت کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کو اس حوالے سے کام کرنا ہو گااور ضلعی جماعت کو اس عدم فعالیت کے حالت سے نکالنا ہو گا۔




دیگر سیاسی جماعتوں میں اگر تنظیمی فعالیت کافقدان نہیں تو آپس کے اختلافات اور گروپ بندیاں ان کے اہداف کے حصول میں روکاوٹ بن رہی ہے ۔ اگر صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کا جائزہ لیا جائے۔ توا س کی صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پارٹی کے ضلعی صدر ایم پی اے عارف احمد زئی اور مرکزی نائب صدر فضل محمد خان کے درمیان اختلافات اور ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر اندارج کے کاروائیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تویہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پارٹی کے مستقبل کیلئے یہ رحجان کوئی نیک شگون نہیں ۔ویسے بھی صوبے میں حکومت کرنے کی وجہ سے عوام میں تحریک انصاف کا وہ امیج باقی نہیں رہا جو 2013کے الیکشن سے قبل تھی ۔ اگر آپس کے ان اختلافات پر قابو نہ پایا گیا تو 2018میں ان کی کامیابی ایک سوالیہ نشان بن جائے گی ۔ عوامی نیشنل پارٹی 2013کے عام انتخابات میں بری طرح ہزیمت اٹھانے کے بعد اب اپنے آپ کو مستحکم کر رہی ہے مگر اے این پی کو مستقبل میں جس چیلنج کا سامنا ہے وہ ٹکٹوں کی تقسیم کا ہے کیونکہ جن امیدواروں کو انتخابی میدان کیلئے کنفرم کرنے کی باتیں گردش کر رہی ہے اس کے نتیجے میں پارٹی کے اندرونی صفوں سے بھی آوازیں اٹھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ ضلع میں اے این پی پارٹی کے امیدواروں کی براہ راست نگرانی ولی باغ سے ہو رہی ہے ۔ اگر امید واروں کوٹکٹ دیتے وقت کوئی معمولی بے اختیاطی ہو جاتی ہے تو اس کے رد عمل کے اثرات بھی ولی باغ پر براہ راست پڑینگے ۔ اسلئے یہ وقت اختیاط برتنے اور ہوش مندی کا تقاضا کر تی ہے ضلعی سطح پر معاملات ایمل ولی خان کی نگرانی میں طے کئے جا تے ہیں جو حال ہی میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں ۔ ضلع میں اکے علاوہ بھی دیگر سیاسی حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے حجاز مقد س گئے تھے جواب واپس آچکے ہیں۔ ان میں اے این پی کے ایمل ولی خان کے علاوہ ممبر قومی اسمبلی مولانا سید گوہر شاہ ، اے این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری محمد احمد خان سمیت دیگر رہنماء بھی شامل تھے جو واپسی کے بعد اب اپنے سیاسی سر گرمیوں کا باضابطہ آغاز کر چکے ہیں۔

جماعت اسلامی شعبہ خواتین کے زیر اہتمام برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ احتجاجی مظاہرے میں بر ما حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔ مظاہرے سے خطاب کر تے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما و ایم پی اے راشدہ رفت ،چارسدہ کے ناظمہ و ڈسٹرکٹ ممبر نازنین اختر اور دیگر نے کہا کہ حکومت فوری طور پر او آئی سی کا اجلاس بلا کر روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لیے مشترک لائحہ عمل طے کریں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے حکمران گونگے ،بہرے اور اندھے ہو چکے ہیں جو برماکے مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر برماکے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ برماکے مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہاہے ۔زندہ انسانوں کو جلایا اور معصوم لوگوں بچوں کو ذبح کیا جارہاہے۔ان حالات میں حکومت پاکستان خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ برما کے سفیروں کو ناپسندیدہ شحصیت قرار دے کر فوری طور پراپنے ممالک سے نکالاجائے ۔ انہوں نے پاکستانی سفیر کو برماسے فور ی طور پر واپس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ۔




تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر فضل محمدخان نے فاروق اعظم چوک میں برمی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے منعقدہ مظاہرے سے خطاب کر تے ہوئے کہا ہے کہ برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف پوری دنیا سراپا احتجاج ہے ۔پاکستان تحریک انصاف بلا تفریق اور بلا تمیز نہ صرف مسلمانوں ، پختونوں بلکہ تمام انسانیت پر ہر جگہ ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اُٹھائیگی ۔ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیا ر ولی خان کے خالیہ بیان کو ہد ف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ نادانستگی میں اسفندیا ر ولی نے مافی الضمیر کا اظہار کرکے اپنا سیاہ چہرہ ظاہر کیا ہے جبکہ ناسمجھ پختون اب بھی اسفندیار ولی خان کے پیچھے کھڑا ہو کر خو د فریبی کے شکا ر ہیں۔ اسفندیار ولی خان کو اپنے گھر کی فکر لگی ہوئی ہے ۔اسفندیار ولی خان نے مشکل وقت میں قوم کو اکیلا چھوڑ کر اسلام آباد میں رہائش اختیار کر لی تھی ۔۔فضل محمد خان نے برمی مسلمانوں کی نسل کشی پر شدید رنج وغم کا اظہار کیا اور مسلم دنیا کے حکمرانوں سے اپیل کی کہ برما کے مسلمانوں کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کریں ۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے سابق ضلعی جنرل سیکرٹری عزیز اللہ خان خطاب کر تے ہوئے کہا کہ پختون قوم کو اسفندیار ولی خان کے قول وفعل میں تضاد کا مشاہدہ کرنا چاہئے اوپختون قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسفندیار ولی خان میں پختون قوم کی قیادت کی اہلیت موجود ہے یا نہیں ؟۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے ضلعی ممبر و چےئرمین پبلک سیفٹی کمیشن حاجی ظفر خان اور پی ٹی آئی کے دیگر ضلعی رہنماء بھی موجود تھے ۔
جے یوآئی کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان نے چارسدہ کے علاقہ صافو باڑی بند مندنی میں شمولیتی جلسہ سے خطاب کر تے ہوئے برما میں مسلمانوں کی نسل کشی اور ظلم بر بریت کی پر زور مذمت کی اور کہا کہ جمعیت علمائے اسلام برما کے مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور برماکے مسلمانوں کا مستقبل محفوظ کرنے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مدارس اور علماء کے خلاف امریکہ اور اس کے حواریوں نے بھر پور پر اپیگنڈہ کیا مگر علماء اور مدارس کے مثبت کر دار اور حکمت عملی کی وجہ سے امریکہ کے تمام سازشیں ناکام ہو گئی ۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک پاکستان کے ترقی اور خوشحالی کا بڑا منصوبہ ہے مگر اب امریکہ اور بھارت مل جل کر سی پیک ناکام بنانے کیلئے سازشوں میں مصروف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ امریکی عزائم کو ہر صورت ناکام بناکر امریکہ کو منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام وطن عزیز کے دفاعی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر نفاذ اسلام کیلئے عملی جدو جہد کر رہی ہے ۔

ولی باغ چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی صدارت میں پارٹی تھنک ٹینک کا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، زاہد خان ، افراسیاب خٹک، شاہی سید ، حاجی غلام احمد بلو ر، باز محمد خان ، بشری گوہر، ستارہ آیاز، ہوتی اور دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال ، سی پیک منصوبہ ، پاک افغان موجودہ صورتحال اور آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے مشاورت کی گئی ۔[/pukhto]

Check Also

خوست جامع مسجد میں دھماکہ۔ 28 افراد جان بحق 38 زخمی۔

افغانستان میں خوست میں واقعہ آرمی کے جامع مسجد میں نماز عصر کے دوران زور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *